نئی دہلی،31 /جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما کے مغربی دہلی میں ہوئی انتخابی ریلی میں بار بار’دہشت گرد‘ قرار دئیے جانے کو لے کر دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے جواب میں کہا کہ پانچ سال تک دن رات دہلی کے لئے سخت محنت کرنے کے باوجود بی جے پی مجھے دہشت گرد کہہ رہی ہے۔میں بے حد غمگین ہوں۔
عام آدمی پارٹی نے دہلی کے چیف الیکشن افسر کو خط لکھا ہے، لیکن شکایتی خط فی الحال الیکشن کمیشن کو فارورڈ نہیں کیا گیا ہے۔اپنے خط میں عاپ نے پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آردرج کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ویسے بی جے پی رہنما کے خلاف الیکشن کمیشن پہلے ہی تحقیقات کر رہا ہے کیونکہ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگ آپ کی بہن بیٹیوں کی عصمت دری کریں گے۔ کیجریوال نے کہا کہ کل بی جے پی کے رہنماؤں نے ’کیجریوال دہشت گرد ہے‘ کہا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تعلیم اور صحت کے لئے انتظام کرنے والا دہشت گرد ہوتا ہے۔بزرگوں کو تیرتھ یاترا پر بھیجا تو کیا میں دہشت گرد بن گیا ؟شہید کے خاندان کا خیال رکھا، تو کیا میں دہشت گرد ہوں۔انہوں نے مزید کہاکہ میں چاہتا توآئی آئی ٹی کے بعد بیرون ملک چلا جاتا لیکن ملک کو ٹھیک کرنا تھا۔انکم ٹیکس کمشنر کی نوکری بدعنوانی تحریک میں شامل ہونے کے لئے چھوڑی۔کیا کوئی دہشت گرد ایسا کرتا ہے؟ بڑے بڑے کرپشن کو بے نقاب کیا، اتنے کیس مجھ پر ہوئے، کیا دہشت گرد ایسا کرتا ہے۔بیمار ہونے کے باوجود 2 بار بدعنوانوں کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ملک کے لئے جان داؤ پر لگائی۔مجھے پریشان کیا گیا، گھر سے لے کر آفس میں ریڈ کرائی۔میرے والدین کو کل بہت دکھ ہوا، ان کا کہنا ہے کہ بیٹا کٹر محب وطن ہے۔آج دہلی والوں پر فیصلہ چھوڑتا ہوں کہ وہ مجھے اپنا بھائی مانتے ہیں، بیٹا مانتے ہیں یا دہشت گرد۔
دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما کے ان کودہشت گرد کہے جانے پر کہاکہ گزشتہ پانچ سال میں میں نے دہلی میں موجود ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھا ہے اور ان کے لئے بہترتعلیم کا انتظام کیا ہے، کیا اس سے میں دہشت گرد ہو گیا؟ میں نے لاکھوں ادویات اور ٹیسٹ کروانے کا اہتمام کیا۔ کیا ایک دہشت گرد ایسا کرتا ہے؟میں ذیابیطس کا مریض ہوں، اور دن میں چار بار انسولین لیتا ہوں۔اگر ذیابیطس کا کوئی مریض انسولین لیتا ہو، اور 3- 4 گھنٹے تک کچھ بھی نہ کھائے، تو گر کر مر سکتا ہے۔ایسی حالت میں بھی میں نے بدعنوانی کے خلاف دو بار بھوک ہڑتال کی، ایک بار 15 دن کے لئے، دوسری بار 10 دن کے لئے۔انہوں نے کہاکہ ہر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کیجریوال 24 گھنٹے سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا۔میں نے ملک کے لئے اپنی جان داؤ پر لگا دی۔گزشتہ پانچ سال میں انہوں نے مجھے پریشان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی میرے گھر پر چھاپے مارے، میرے دفتر پر چھاپے مارے، میرے خلاف معاملے درج کئے، میں دہشت گرد کیسے ہو سکتا ہوں؟